ٹیکسٹائل انڈسٹری کی تباہی کا واضح اشارہ: زاہد جی کی جانب سے ‘والی مل’ کی 262 لومز بند کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار، حکومت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ

لاہور (21 اکتوبر 2026ء): نامساعد حالات اور حکومتی عدم توجہی کے باعث ملک کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جانے والی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو شدید بحران کا سامنا ہے، جس کا تازہ ترین اور خوفناک ثبوت زاہد جی کی جانب سے اپنی 262 لومز پر مشتمل ‘والی مل’ کی بندش ہے۔ اس ایک فیصلے کے نتیجے میں سینکڑوں غریب مزدور اور ان کے وابستہ خاندان نانِ شبّہ کے لیے محتاج اور بے روزگار ہو چکے ہیں۔ کاروباری اور صنعتی حلقوں نے اس صورتحال پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو باقی کارخانے بھی بند ہو جائیں گے۔ اپیل میں حکومتِ پاکستان سے پرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ چین سے کپڑے کی درآمد (امپورٹ) میں فوری کمی کرے تاکہ مقامی انڈسٹری اور پیداوار کو تحفظ مل سکے۔ صنعت کاروں نے مشورہ دیا ہے کہ حکومت ویتنام اور چین کی کامیاب صنعتی پالیسیوں کا مطالعہ کرے تاکہ ملک میں بے روزگاری کے طوفان کو روکا جا سکے اور ٹیکسٹائل سیکٹر کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں