زیر حراست کشمیری طالب علم کی والدہ پر بھارتی فورسز کا بہیمانہ تشدد

سرینگر:مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے کالے قانون ”پبلک سیفٹی ایکٹ“ کے تحت نظر بند کشمیر ی طالب علم عاقب گلزار کی والدہ پر بھارتی فورسز کے تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بدترین سفاکیت قرار دیا ہے۔

کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق سیدعلی گیلانی نے سری نگر سے جاری ایک بیان میں حریت دفتر کو موصول ہونے والی تفصیلات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی پولیس نے ڈسٹرکٹ جیل کٹھوعہ میں’ پی ایس اے‘ کے تحت نظربند طالب علم عاقب گلزار کو امتحان میں شرکت کیلئے 10مئی کو اسلام آباد میں اپنی پوسٹ پر پہنچا دیا ۔

انہوں نے کہا کہ امتحانی مرکز کا راستہ بند ہونے کی وجہ سے طالب علم امتحان میں شامل نہیں ہوسکا اوردوران طالب علم کی ماں اپنے بیٹے کے ساتھ ملاقات کے لیے پولیس پوسٹ پہنچی لیکن پولیس حکام نے وہاں اس کے ساتھ تلخ کلامی کی اور اسے دھکے دیکر فرش پر گرادیا جس سے وہ زخمی ہوگئی۔

سید علی گیلانی نے انسانی حقوق کے عالمی اداروں پر زور دیا کہ وہ بھارتی فورسز کی طرف سے نہتے کشمیریوں کے ساتھ روا رکھے جانے والی بہیمانہ کارروائیوں کا نوٹس لیں۔ دریں اثنا سید علی گیلانی نے بھارتی فورسز کی طرف سے شوپیاں میں شہید ہونے والے نوجوانوں کو شاندار خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے کشمیر میں قتل وگارت کا سلسلہ بدستور جاری ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اس قتل عام کی تمام تر ذمہ داری بھارت پرعائد ہوتی ہے جو تنازعہ کشمیر کو اس کے تاریخی پس منظر میں حل کرنے کی بجائے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو فوجی طاقت کے بل پر دبانے کی پالیسی پر 

اپنا تبصرہ بھیجیں