ایران نے یورنیم افزودگی دوبارہ شروع کرنے کا عندیہ دے دیا

تہران : جوہری معاہدے سے امریکی دستبرداری کے 1 سال بعد ایران 2015 میں طے ہونے والے معاہدے کی اہم شرائط سے نکل گیا۔

تفصیلات کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی انقلاب اسلامی کے رونما ہونے کے بعد سے جاری ہے لیکن سنہ 2015 میں دیگر عالمی طاقتوں سمیت امریکا  اور ایران کے درمیان جوہری معاہدہ ہوا تھا جس کے بعد ایران پر عائد پابندیوں کمی کی گئی تھی۔

ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ ’ہم یورنیم کو فروخت کرنے کے بجائے اپنے ملک میں استعمال کرسکتے ہیں‘، حسن روحانی نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ایران آئندہ 60 روز میں یورنیم افزودگی کا عمل دوبارہ شروع کرے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے جوہری معاہدے کا مقصد ایران کے ایٹمی عزائم کو کم کرنا اور ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کرنا تھا لیکن امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث واشنگٹن معاہدے سے دستبردار ہوگیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے دوبارہ عائد کی گئی پابندیوں سے ایرانی معیشت کو جدید جھٹکا لگا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب یورنیم افزودگی کے عمل کو دوبارہ شروع کرنے کا اعلان امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو کے اچانک دورہ عراق اور امریکی بحری بیٹری کی خلیج فارس تعیناتی کے بعد کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ امریکی سیکریٹری خارجہ نے جوہری معاہدے سے امریکی دستبرداری کے بعد کہا تھا کہ امریکا ایران کو کسی صورت بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے۔

مائیک پومپیو نے کانگریس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کو خبر دار کیا کہ ایران یورینیم افزودگی کی مقدار بڑھائے جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں