چوبیس افراد کی شہادت کے بعد غزہ اور اسرائیلی حکام کے درمیان جنگ بندی معاہدہ

غزہ اور اسرائیلی حکام کے درمیان کئی روز سے جاری کشیدہ صورتحال کے بعد جنگ بندی کا معاہدہ طے پاگیا جب کہ کشیدگی کے دوران 24 فلسطینی شہید اور 4 اسرائیلی شہری مارے گئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے اسرائیل سے جنگ بندی کا معاہدہ طے پاگیا جب کہ حماس کی جانب سے بھی ٹی وی پر اس کے اعلانات کیے گئے۔

خبر ایجنسی کے مطابق حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی میں مصر نے ثالثی کا کردار ادا کیا فلسطینی اور مصری حکام نے اس کی تصدیق بھی کی تاہم اسرائیل کی جانب سے اب تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

گزشتہ روز غزہ پر اسرائیل کی گولہ باری اور فضائی حملوں میں چار ماہ کے بچے اور حاملہ خاتون سمیت 19 فلسطینی شہید ہوئے اور جمعے سے جاری اسرائیلی حملوں میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 24 ہوگئی۔ 

اسرائیل نے الزام لگایا کہ غزہ سے حماس کی جانب سے 500 سے زائد راکٹ فائر کیے گئے جس کی زد میں آکر 4 شہری مارے گئے جس کے جواب میں غزہ میں 250 ٹارگٹ کیے گئے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  نے اسرائیلی کارروائیوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو ایک بار پھر حماس اور اسلامی جہاد کے دہشت گرد راکٹ حملوں کا سامنا ہے، اسرائیل کے اپنے شہریوں کے دفاع میں کیے گئے اقدامات میں سو فیصد ساتھ کھڑے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیاں غزہ کے عوام کے لیے مزید مصائب لائیں گی، تشدد کا راستہ چھوڑ کر امن کے لیے کام کریں اور یہ ممکن ہو سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں