پاکستانی لڑکیوں سے شادی کرکے جسم فروشی پر مجبور کرنے والا چینی گروہ پکڑا گیا

لاہور: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے پاکستانی لڑکیوں کو جھانسہ دے کر جسم فروشی پر مجبور کرنے والا گروہ گرفتار کرلیا جن میں 4 پاکستانی اور 8 چینی باشندے شامل ہیں۔

ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے جمیل میو کے مطابق غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث غیر ملکیوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے جس کے تحت ایف آئی اے نے لاہور ائیر پورٹ سمیت دیگر علاقوں میں کارروائیوں کے دوران خاتون سمیت 8 چینی باشندوں کو گرفتار کیا۔

اس کیس کی تحقیقات میں مزید پیشرفت ہوئی ہے اور گرفتار 8 چینی باشندوں کے 4 پاکستانی ساتھی بھی گرفتار کرلیے ہیں جس کے بعد مکروہ دھندے میں شامل گرفتار ملزمان کی تعداد 12 ہوگئی ہے۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق گرفتار افراد میں قیصر، کاشف نواز، اسماعیل یوسف اور زاہد مسیح شامل ہیں۔

ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ گروہ کا سرغنہ پنجاب پولیس کے آفیسر کا بیٹا ہے جس کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا گیا تو ملزم فرار ہوگیا تھا اور ملزم نے فرار کے بعد 13 مئی تک عبوری ضمانت بھی حاصل کر رکھی ہے۔

حکام نے بتایا کہ ملزمان پاکستانی ایجنٹوں کے ساتھ مل کر پاکستانی لڑکیوں سے شادی کرتے تھے اور لڑکیوں کےگھر والوں کو 50 ہزار روپے بھجواتے تھے، ملزمان لڑکیوں کو چین  لے جا کر ان سے جسم فروشی کراتے تھے۔ 

ایف آئی  اے حکام کے مطابق ملزمان کو ٹریس کرنے کے لیے ایف آئی  اے ٹیم نے ایک شادی میں خود بھی شرکت کی، شادی میں شرکت کرکے ٹیم نے ملزمان کےکوائف جمع کئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں