ملزم ڈاکٹر نے 8 سالہ بچی کی غلط انجکشن سے ہلاکت کا اعتراف کرلیا

مقامی عدالت نے 8 سالہ صبا نور کو غلط انجکشن لگانے والے ملزم کو ایک روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔

کراچی سٹی کورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو 8 سالہ صبا نور کو غلط انجکشن لگانے والے ملزم عدنان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جب کہ بچی کا والد ظفر اقبال بھی عدالت میں پیش ہوا۔ بچی کے والد نے بیان دیا کہ میری بیٹی کی طبعیت خراب ہوئی تو ڈاکٹر عدنان کی کلینک پہنچے،  ڈاکٹر نے ہم سے دوائیاں منگوائیں جس میں ایک انجکشن تھا جو میری بچی کو لگایا گیا اور اسی وقت میری بیٹی دم توڑ گئی۔

ڈاکٹرعدنان بچی کی ہلاکت کے بعد پہلے اسے مصنوعی سانس دیتا رہا، اور پھر بچی کو دوسرے اسپتال منتقل کرنے کے لئے ہم پر زور دیا، جب ہم دوسرے اسپتال پہنچے تو پتہ چلا بچی جاں بحق ہوچکی ہے، اسپتال ڈاکٹرز نے ہم سے فوری طبی امداد میں دی گئی ادویہ اور انجکشن کے حوالے سے پوچھا اور کہا کہ آپ دوبارہ اسی اسپتال میں جائیں جہاں آپ کی بچی کو انجیکشن لگایا گیا تھا اور ان سے پوچھیں کہ انہوں نے آپ کی بیٹی کو کون سا انجکشن لگایا تھا، ہم جب ڈاکٹر عدنان کی کلینک پہنچے تو وہ فرار ہوچکا تھا۔

تفتیشی افسر اعجاز قریشی نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے غلط انجکشن لگا کر ایک معصوم بچی کی جان لی، ملزم کے خلاف گلشن اقبال پولیس نے مقدمہ درج کیا، مقدمے میں قتل، قتل خطا اور جعلی ڈگری کی دفعات شامل کی گئی ہیں، ہم نے تحقیقات کیں تو پتہ چلا کہ ملزم کی ڈگری جعلی ہے، ایک جعلی ڈگری 2002 میں کراچی یونیورسٹی کی ہے، اور دوسری ڈگری ہومیو پیتھک کی ہے۔ ملزم نےعدالت میں جعلی ڈاکٹر ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ اسے جعلی ڈگری ہومیو پیتھک ڈاکٹر وحید نے بنا کردی تھی، جس کے عوض مجھ سے 20 ہزار روپے لئے گئے، میں کبھی کراچی یونیورسٹی نہیں گیا۔

تفتیشی افسر نے استدعا کہ ملزم کے جعلی ڈاکٹر ہونے کے اعتراف کے بعد عدالت 14 دن کا ریمانڈ دے تاکہ مزید تحقیقات کی جاسکیں۔ تاہم عدالت نے ملزم عدنان کو ایک دن کےجسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں